Khatme Nubuwwat Blog

ختم نبوۃ و قادیانی

امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی مدظلہ

امیر مرکزیہ حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی مدظلہ کی طرف سے حضرات علماء کرام کی خدمت میں ضروری گذارشنحمدہ و نصلہ علی رسولہ الکریم، اما بعد بخدمت علیجناب حضرات علماء کرام آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ مسلمانوں کے ایمان کی جان ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنی سی گستاخی انسان کو دارین کی فلاح سے محروم اور ابدی عذاب و شقاوت کا مستحق بنا دیتی ہے۔ حال ہی میں ملکی اخبارات میں ننکانہ کی ملعونہ آسیہ کا کیس بہت شہرت حاصل کر گیا ہے۔ اس مسیحی خاتون نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا ارتکاب کیا۔ پنجائیت، پولیس کی انکوائری نے اسے ملزم ثابت کیا۔ پرچہ درج ہوا۔ سیشن جج نے کیس کی سماعت کی۔ گواہان کے بیانات، مقدمہ کے چالان اور خود ملزمہ کے اعتراف کے بعد عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر سزا سنائ۔ ہائیکورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف مجرمہ نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس کی سماعت نہیں ہوئ۔ اگر ہائیکورٹ کا فیصلہ مجرمہ ک خلاف ہوا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کا مرحلہ باقی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر خلاف ہو جائے تو بھی مجرمہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواست کا حق رکھتی ہے۔ ابھی تمام تر یہ عدالتی طریق کار باقی ہے۔ ان سب کو نظر انداز کر کے ملعونہ آسیہ کے ہاں جیل میں گورنر پنجاب گئے اور پھر ملک میں آسیہ کو بچانے کی جدوجہد، اس قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کا پروپیگینڈہ اس زور کے ساتھ شروع ہو گیا کہ کان پڑی آواز نہیں سنائ دیتی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کی ایک رکن قومی اسمبلی جناب شیریں رحمان نے اس قانون کوختم کرنے یا تبدیل کرنے کا بل قومی اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے۔ گورنر پنجاب، شیریں رحمان، ملک بھر کی این جی اوز وغیرہ کی کاروائیوں کو امریکی مطالبہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو شدید اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کسی وقت بھی تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرنے کی سازش تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد کف افسوس ملنے کے ہمارے پاس باقی کچھ نہ رہ پائے گا۔ ان حالات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آپ کی خدمت میں گذارش ہے کہ خطبہ جمعہ، تحریر و تقریر، اخبارات کے ذریعہ اس قانون کی اہمیت و افادیت اور تحفظ ناموس رسالت کی مسلمانوں کے ہاں حساسیت کے لئے رائے عامہ کو بیدار کرنے میں اپنا فرض ادا کریں۔ اپنے حلقہ کے قومی اسمبلی کے ممبران کو قائل کریں کہ اسمبلی میں بھی اس سازش کو ناکام بنائیں۔ امید ہے کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو پیغمبر علیہ السلام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے صرف کر کے ممنون فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء
  706 Hits

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر بمقابلہ قادیانی جماعت کے ناظر دعوت و تبلیغ زین العابدین ولی اللہ شاہ

مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر کے متعلق قادیانی جماعت کے ناظر دعوت و تبلیغ زین العابدین ولی اللہ شاہ نے اخبار الفضل مورخہ یکم جولائ ۱۹۵۰ میں باضابطہ اعلان کیا

 

مبلغین سلسلہ و دیگر احباب محتاط رہیں

 

مولوی لال حسین اور اس قماش کے دوسرے مبلغین جگہ بہ جگہ ہمارے خلاف اکھاڑے قائم کئے ہوئے ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام کو بازاری قسم کی گندی گالیاں دیتے اور ہمارے عقائد اور اقوال ۔۔۔ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنے طرف سے من گھڑت باتیں ہماری طرف سے منسوب کر کے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں اور مبلغین سلسلہ کو چیلنج دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ مناظرہ کر لیں۔۔۔ چنانچہ ساہیوال کے جلسہ میں لال حسین اختر نے مبلغین سلسلہ کوخطاب کر کے بار بار کہا آو مناظرہ کرو ۔ تم مذہبی جماعت نہیں بلکہ سیاسی جماعت ہو۔ عنوان ہو کہ قادیانی کافر تھا انگریز کا جاسوس تھا۔ دجال تھا۔ کذاب تھا۔ گونگا شیطان تھا۔ اگر نہ آو تو لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔ فرشتوں کی لعنت۔آسمان کی لعنت۔ زمین کے بسنے والوں کی لعنت۔ میں اللہ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مرزائ مقابلہ پر آئے تو دن کے تارے نہ دکھائے تو لال حسین اختر میرا نام نہیں۔ کوئ مرزائ میرا سامنے بول نہیں سکتا۔ کوئ میرے سامنے آئے تو ناطقہ بند ہو جائے گا ۔۔۔ اس لیے میں زین العابدین قادیانی ناظر دعوۃ و ارشاد مبلغین سلسلہ کو کھلے الفاظ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ مناظروں کے لیے ان کے چیلنجوں پر قطعا توجہ نہ کی جائے۔ بلکہ ان کے کسی ایسے جلسوں میں کسی احمدی کو شریک نہ ہونا چاہیے

Continue reading
  764 Hits