مرزا قادیانی کا تعارف

بد گفتار

لعنتی کردار

ہرزہ سرائی میں منہ زور

نبوت کا چور

جھوٹ کا مجسمہ

انگریز کے بوٹ کا تسمہ

خواہشات کا بندہ

سوچ کا گندہ

عادات

ذلیل فطرت

رزیل

بدشکل

کوتاہ عقل

مکروہ خدوخال

بے ڈھنگی چال

ایک آنکھ سے کانا

کفر میں سیانا

دل سیاہ

ضمیر ٹھاہ

فرنگی کا غلام

دشمن خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم

گالیو ں کی برسات

ارتداد کی سیاہ رات

ایمان کا شکاری

درِ انگریز کا بھکاری

دولت کا حریص

منافقت کا مریض

اخلاق کا قاتل

سراپا باطل

ننگ شرافت

لائق حقارت

فتنہ ساز

نو سرباز

علامت فساد

منکر جہاد

کلیسا کا پجاری

ملکہ پہ صدقے واری

امام دجل و تلبیس

باعث فخر ابلیس

پیشوائے مرتدین

رہنمائے زندیقین

منکر حدیث

ازلی خبیث

غدار ابن غدار

انگر یز کا زلہ خوار

کافر کبیر

زلف ملکہ وکٹو ریہ کا اسیر

مسیلمہ کذاب کا ترجمان

اسود عنسی کا نشان

کفر کی برہان

شیطان کی پہچان

دشمن قرآن

بانی فتنہ ء قادیان

شخصیت بڑی شیطانی ہے

نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے


یہ ننگ انسانیت بھارت کے صو بہ مشر قی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک پسماندہ گاوں '' قادیان '' میں پیدا ہوا ۔

اس کے بیٹے بشیر احمد نے اپنی کتاب '' سیرت المہدی '' میں اس کی تاریخ پیدائش 1836ء لکھی ہے ۔

اپنی پیدائش کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ مرزا قادیانی اپنی کتاب میں یوں لکھتا ہے ۔

'' میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام جنت تھا ۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا … اور میرا سر اس کے پائوں میں تھا ۔ '' ( تریاق القلوب صفحہ 351 ، روحانی خزائن صفحہ 479 جلد ۱۵ از مرزا قادیانی )

مرزا قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضی تھا جس نے تمام عمر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پر گذاری اور نماز کبھی نہ پڑھی ۔

اس کی ماں کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی تھا ۔

مرزا قادیانی کو بچپن میں دسوندی اور سندھی کے ناموں سے پکارا جاتا تھا ۔

مرزا قادیانی نے ' کتاب البریہ ' کے صفحہ 134 پراپنی قوم مغل ( برلاس ) بتائی

اور لکھا کہ میرے بزرگ ثمرقند سے پنجاب میں وارد ہوئے تھے لیکن اس کتاب کے صفحہ 135 کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ میرے الہامات کی رو سے ہمارے آباء و اولین فارسی تھے اور 1900ء تک اسی موقف پر قائم رہا

5 نومبر1901ء کو رسالہ ' ایک غلطی کا ازالہ ' شائع کیا جس کے صفحہ 16 پر لکھا کہ میں '' اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی '' ۔

اس کے ایک سال بعد اپنی کتاب ' تحفہ گولڑویہ ' کے صفحہ 40 پر لکھا کہ میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے تھے اور اپنی کتاب ' چشمہ معرفت ' میں اپنے آپ کو چینی الاصل ثابت کرنے کی کوشش کی ۔

اپنی تعلیم سے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے '' جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں ... ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کیلئے مقرر کئے گئے... میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا، ان کا نام گل علی شاہ تھا ۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر ( استاد کا احترام ملاحظہ فرمائیں ) رکھ کر قادیان میں پڑھانے کیلئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا ، حاصل کیا ۔ '' (کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 162،163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ180،181 از مرزا قادیانی )


مرزا قادیانی نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور اب تعلیم کے علاوہ دیگر مصروفیات کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے '' میرے والد صاحب اپنے بعض آباء و اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کیلئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے ، انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا ۔ میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا ۔ اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کانشانہ رہتا رہا ۔ ( کتاب البریہ صفحہ 164 مندرجہ خزائن جلد 13 صفحہ182از قادیانی)


مرزاقادیانی کو چڑیا پکڑنے کا شوق تھا اور انہیں سرکنڈوں سے ذبح کرلیتا ۔ قادیان کے چھپڑ میں تیراکی کا شوق تھا ۔ اکثر جوتا الٹا سیدھا پہنا کرتا تھا ۔ چابیاں ریشمی ازاربند کے ساتھ باندھا کرتا تھا ۔ اوپر والے کاج میں نیچے والا بٹن اور نیچے والے کاج میں اوپر والا بٹن اکثر لگاتا اور جرابیں بھی الٹی پہنتا یعنی ایڑھی والا حصہ اوپر ہوتا ۔ پسندیدہ بیٹھنے کی جگہ پاخانہ کیلئے استعمال ہونے والا کمرہ تھا جہاں کنڈی لگا کر دو ، تین گھنٹے بیٹھا رہتا تھا ۔ مرزا قادیانی کی طبیعت آوارہ اور فضول خرچی کا شوق غالب تھا ۔ سیرت المہدی جلد اول صفحہ34 پر مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد اپنے باپ کا واقعہ اپنی والدہ کے حوالے سے لکھتا ہے '' بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن مبلغ 700روپے وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا ۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جگہ چلا گیا ۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے ۔ '' (سیرت المہدی جلد اول صفحہ 34 از مرزا بشیر احمد)

اب گھر جاتا تو جوتے پڑتے اسی لئے گھرجانے کی بجائے سیالکوٹ کی کچہری میں 15روپے ماہوار پر بطور منشی ملازم ہوگیا ۔

سیرت المہدی کے مطابق مرزا قادیانی کی سیالکوٹ کی کچہری کی مدت ملازمت 1864ء تا1868 ء ہے۔

مر زا احمد علی شیعی اپنی کتاب دلیل العرفان میں لکھتے ہیں کہ '' منشی غلام احمد امرتسر ی نے اپنے رسالہ '' نکاح آسمانی '' کے راز ہائے پنہائی میں لکھا تھا کہ مرزا نے زمانہ محرری میں خوب رشوتیں لیں ۔ یہ رسالہ مرزا کی وفات سے آٹھ سال پہلے 1900 ء میں شائع ہو گیا تھا مگر مرزا قا دیانی نے اس کی تردید نہیں کی ۔

اسی طر ح مو لوی ابر ہیم صاحب سیالکوٹی نے ' مناظرہ روپڑ ، میں جو 22-21 مارچ 1932ء میں ہوا ، ہز ارہا کے مجمع میں بیان کیا کہ مرزاصاحب نے سیالکوٹ کی نوکر ی میں ر شوت ستانی سے خو ب ہاتھ رنگے اور یہ سیالکوٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی جس سے مرزاصاحب نے چار ہزار روپیہ کا زیو ر اپنی دو سر ی بیگم کو بنوا کر دیا ۔'' (روداد مناظرہ روپڑ مطبوعہ کشن سٹیم پریس جالندھر ص35 ) رشوت خوری کا ایک نرالا اچھوتا اور ماڈر ن انداز بھی ملاحظہ ہو ۔ '' ہمارے نانا فضل دین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مرزاصاحب کچہر ی سے واپس آتے تو چو نکہ آپ اہلمد تھے مقدمے والے زمیندار ان کے مکان تک پیچھے آجاتے ''۔ ( یا مرزا قادیانی خود لے آتا ) ۔( مئو لفّ ) (سیر ت المہدی جلد 3 صفحہ93 )

دورانِ ملازمت قانون کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور مختاری کا امتحان دیا مگر امتحان میں کامیاب نہ ہوا اور منشی سے آگے نہ بڑھ سکا ۔

اسی دوران انگریزی ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے ڈی سی آفس میں مرزا قادیانی سے ملاقات کی ۔ گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا ۔ یہ فرد واپس اپنے ملک روانہ ہو گیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا ۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو ، جواب دیا کہ میں نوکر ہو گیا ہوں اور پھر بغیر مرسل کے پتہ کے منی آرڈر ملنے شروع ہو گئے ۔

مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی ، بحث و مباحثہ ، اشتہار بازی اور کفر و ارتداد پر مبنی تصانیف کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ پھر مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ کتاب لکھے گا جو پچاس جلدوں پر مشتمل ہو گی لہٰذا تمام مسلمان مخیر حضرات اس کی طباعت وغیرہ کیلئے پیشگی رقوم ارسال کریں ۔ مرزاقادیانی کے بیان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی رقم پیشگی بھجوا دی ۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ کے نام سے اس کتاب کو لکھا ۔ پانچ جلدیں مکمل ہونے پر کیا اعلان کیا ، لوگوں کے پیسے ہڑپ کرنے کیلئے کیا مضحکہ خیز دلیل دی ملاحظہ ہو ۔ '' پہلے پچاس لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے ، اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا ۔ '' (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 9 از مرزا قادیانی )

مرزا قادیانی نے 85 کے قریب کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں کو علیحدہ علیحدہ بھی شائع کیا گیا اور 23 جلدوں میں روحانی خزائن کے نام سے ایک مجموعہ کی شکل میں اکٹھا کیا گیا ہے ۔ ان کتابوں میں مرزا قادیانی نے سینکڑوں دعوے کئے ۔ اس نے بتدریج خادم اسلام ، مبلغ اسلام ، مجدد ، مہدی ، مثیل مسیح ، ظلی و بروزی نبی ، مستقل نبی ، انبیاء سے افضل حتیٰ کہ خدائی تک کادعویٰ کیا ۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا ۔ حقیقت میں تو نبی ، مہدی ، مسیح ، مجدد ، عالم فاضل ہونا تو دور کی بات ہے مرزا غلام احمد قادیانی انسان بھی نہ تھا ۔ خود اپنی ذات کے متعلق ایک شعر کہتا ہے کہ

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار


بشر کی جائے نفرت یعنی مرزا قادیانی کی پہلی شادی حرمت بی بی سے ہوئی جس کو لوگ ' پھجے دی ماں ' کہا کرتے تھے ۔ جس سے دو لڑکے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد کافی عرصہ تک پہلی بیوی سے مباشرت ترک کئے رکھی ۔ پھر پچاس سال کی عمر میں دوسری شادی کر لی ۔ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی کا نام نصرت جہاں بیگم ہے ، جس سے پچاس سال کی عمر میں شادی رچائی ۔ نصرت جہاں بیگم ماڈرن خاتون تھی اور مرزا قادیانی کے مریدوں کے ساتھ قادیان سے لاہور سینکڑوں میل کی مسافت طے کر کے کئی دن خریداری کیلئے لاہور میں گزارہ کرتی تھی ۔ اگرچہ مرزا قادیانی دائمی مریض تھا اور نامردی کا اقرار بھی کرتا تھا تاہم اولاد کثرت سے ہوئی جس کی تعداد دس تھی ۔

مرزا قادیانی کی زندگی کا سب سے دلچسپ واقعہ محمدی بیگم سے نکاح کی خواہش کے متعلق ہے جس پر وہ دل ہار بیٹھا اور اسے حاصل کرنے کیلئے عجیب و غریب ہتھکنڈے استعمال کیے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ یہ اعلان تھا کہ '' خدا نے آسمان پر محمدی بیگم سے میرا نکاح کردیا ہے اور وہ ضرور میری ہوگی ۔'' لیکن نکاح نہ ہونا تھا ، نہ ہوا البتہ محمدی بیگم کے والدین نے اس کی شادی سلطان محمود سے کر دی اور اللہ پاک نے محمدی بیگم کو تین بیٹے عطا کئے ۔ چونکہ محمدی بیگم بھی مرزا قادیانی کے خاندان سے تھی اور خاندان والوں نے اس کا نکاح دوسری جگہ کروا دیا تھا۔ مرزا قادیانی کی پہلی بیوی نے اس مسئلہ پر خاندان والوں سے قطع تعلق نہ کیا جس وجہ سے مرزا قادیانی نے اس کو طلاق دے دی ۔

قادیانی مر زا قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں لیکن ہم جھو ٹ کے اس پہاڑ کو سچائی کی ٹھوکر سے اڑاتے ہو ئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ بد خصلت اس فرش خاکی پہ جنم لینے والا بدترین انسان تھا جس کے رگ و ریشے پر شیطان کی حکمرانی تھی ، جس کا دماغ ابلیسی سازشوں کا ہیڈ کوارٹر تھا اور جس کا دل کفر و ارتداد کا اندھا کنواں تھا ، جس کا باطن قبر کی تاریکی سے زیادہ کالا تھا اور جس کی زبان گالیوں اور گستاخیوں کی مشین گن تھی ۔ یہ شخص شراب و افیو ن کا رسیا تھا ۔ زنا جیسے فعل شنیع کا عادی تھا ۔ بے غیرت و بے حیا تھا ۔ جاہل مطلق اور مخبوط الحواس تھا ۔ بے ہودہ شاعری کرنا اس کا شوق تھا ۔ جھوٹ بو لنا اور فراڈ کے ذر یعہ لو گو ں سے رقم حاصل کرنا اس کی سرشت میں داخل تھا ۔ چور اور لٹیرا تھا ۔ اسلام اور ملت اسلامیہ کا غدار اور یہود و نصاری کا پالتو تھا ۔ اس کی زبان پلید نے دعوی نبوت اور جہاد کے حرام ہو نیکا اعلان کیا ۔

دنیا میں بہت سے گمراہ اور جھوٹے مدعی نبوت گذرے ہیں جنہوں نے ایک آدھ دعویٰ کیا مگر مرزا قادیانی کے دعوئوں کا کوئی حد اور شمار نہیں ۔ مرزا قادیانی نے سینکڑوں دعوے کر کے تمام مدعیان نبوت سے کفر اور دجل میں سبقت لے گیا ۔

دعوئوں کی کثرت کی وجہ سے مرزائی امت بھی مرزا قادیانی کا تعین نہیں کرسکی کہ وہ کیا چیز ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی مجدد زماں یا امام دوراں یا مہدی زماں ہونے کا دعوے دار تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود ہونے کا دعوے دار تھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ لغوی یا مجازی یا بروزی یا ظلی نبی ہونے کا دعوے دار تھا اور کوئی کہتا ہے کہ مرزا قادیانی غیر تشریح نبی تھا اور کوئی اسے صاحب شریعت اور مستقل نبی مانتا ہے ۔

مرزا قادیانی اپنی تمام تر خباثتوں اور باطل دعووں سمیت ہیضہ کے مرض ( جسے مرزا قادیانی قہرِ الٰہی کا نشان اور ہیضہ سے مرنے کو لعنتی موت قرار دیتا تھا ) میں مبتلا ہو کر 26 مئی 1908 ء کو اپنے ایک مرید کے گھر واقع برانڈرتھ روڈ لاہور میں مرا ۔ مرزا قادیانی کی زندگی کا آخری فقرہ '' میر صاحب ! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے '' تھا (مندرجہ حیات ناصر صفحہ 14) ۔ بوقت موت غلاظت اوپر اور نیچے سے بہہ رہی تھی ۔ اپنی ہی غلاظت کے اوپر گر کر مر جانے سے زیادہ عبرتناک موت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ لاش مال گاڑی ( جسے مرزا دجال کا گدھا کہا کرتا تھا ) میں لاد کر قادیان پہنچائی گئی جہاں مٹی میں دبا دیا گیا ۔

Download مرزا قادیانی کا تعارف in pdf
Download مرزا قادیانی کا تعارف in epub
Download مرزا قادیانی کا تعارف in txt
Download مرزا قادیانی کا تعارف in docx
Download مرزا قادیانی کا تعارف in html
Download مرزا قادیانی کا تعارف in azw3

Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

  1. Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
Type the text presented in the image below