حیات عیسی علیہ اسلام – قرآن سے ثابت

سُوۡرَةُ النِّسَاء

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥٥﴾


وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ﴿١٥٦﴾


وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾


بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٥٨﴾


ترجمہ:

ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کردی ان کے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لا تے مگر کم (۱۵۵)


اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر (۱۵۶)

اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بےشک (۱۵۷)


بلکہ اس کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا (۱۵۸)


تفسیر عثمانی:


یعنی یہود نے اس عہد کو توڑ دیا تو حق تعالٰی نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی سے منکر ہونے پر اور انبیاء علیہم السلام کے ناحق قتل کرنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں، ان پر سخت عذاب مسلط فرمائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو ہدایت کی تو کہنے لگے ہمارے دل پردہ میں ہیں تمہاری بات وہاں تک پہنچ نہیں سکتی۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان کے دلوں پر اللہ تعالٰی نے مہر لگا دی ہے جس کے باعث ان کو ایمان نصیب نہیں ہو سکتا مگر تھوڑے لوگ اس سے مستشنٰی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔


یعنی اور نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منکر ہو کر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔


اللہ تعالٰی ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔ یہود جو مختلف باتیں اس بارے میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالٰی سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالٰی نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اسکو میسح سمجھ کر قتل کر دیا پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے کسی نے کہا کہ یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا علم کسی کو بھی نہیں حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھا لیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔


Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

  1. Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
Type the text presented in the image below