احمدی حضرات غیر احمدی حضرات کو کیا سمجھتے ہیں

۱۔ "اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔"

(انوار اسلام صفحہ ۳۰ مندرجہ روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ نمبر ۳۱ از مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۲۔ ترجمہ: "میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔"

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۷، روحانی حزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۷ از مرزا صاحب)

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ۵۴۸ ، روحانی حزائن جلد ۵ صفحہ ۵۴۸ از مرزا صاحب)

 

۳۔ " دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کے عورتیں کتیوں سے بڑھ گئ ہیں"

(نجم الہدی صفحہ ۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۵۳ از مرزا صاحب)

 

۴۔ "جو میرے مخالف تھے ۔ ان کا نام عیسائ اور یہودی اور مشرک رکھا گیا"

(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ ۴ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۲ از مرزا صاحب)

 

۵۔ " اور مجھے بشارت دی ہے کہ جسں نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے"

( تذکرہ مجموعہ الہامات صفحہ ۱۶۸ طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۶- " خدا تعالی نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے "

(تذکرہ مجموئہ الہامات صفحہ ۶۰۰ طبع دوم از مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۷- " ہر ایک ایسا شخص جو موسیؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیؑ کو نہیں مانتا یا عیسیؑ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں-"

(کلمتہ الفصل صفحہ ۱۱۰ از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۸۔ " کل مسلمان جو مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ "

(آئینہ صداقت صفحہ ۳۵ از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۹- " ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالی کے ایک نبی کے منکر ہیں-"

(انوار خلافت صفحہ ۹۰ از مرزا محمود احمد)

 

۱۰۔ " غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں حتی کہ غیر احمدی معصوم بچہ کا بھی جائز نہیں۔ "

(انوار خلافت صفحہ ۹۳ از مرزا محمود احمد)

 

۱۱۔ " صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے۔ تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالی جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے ، وہ نہیں رکھے گا۔"

(ملفوضات احمدیہ جلد اول صفحہ ۵۲۵ از مرزا غلام احمد قادیانی)

 

۱۲ – " آپ (مرزا صاحب) کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا ہے۔ جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے، آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نہ کبھی شرارت نہ کی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہونگے۔ آپ کی جس طرح مرضی ہے اس طرح کر لیں ۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا-"

(انوار خلافت صفحہ ۹۱ از مرزا بشیر الدین محمود)

 

۱۳۔ " ایک اور سوال بھی ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے ۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئ قسم کی مجبوریاں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو خلیفہ اول نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ کہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔"

(انوار خلافت صفحہ ۹۳ از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(انوار خلافت صفحہ ۹۴ از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

 

۱۴- " ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نماز الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرا دنیاوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکھٹا ہونا ہے اور دنیاوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔"

(کلمتہ الفصل صفحہ ۱۶۹ از مرزا بشیر احمد پسر مرزا غلام احمد قادیانی)


Comments (0)

There are no comments posted here yet

Leave your comments

  1. Posting comment as a guest. Sign up or login to your account.
Attachments (0 / 3)
Share Your Location
Type the text presented in the image below